کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری
پراسراریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق
خوش نصیبی اور بد نصیبی کا تعین بے حد مشکل کام ہے بعض اوقات انسان زندگی بھر کسی شے کی آرزو کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کی وہ آرزو کر رہا ہے وہ اس کے لئے ایک خواب سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اگروہ چیز اسے حاصل ہو جائے تو اس کی عقل تسلیم ہی نہیں کرتی۔
بمشکل تمام اگروه اس خوشی کو برداشت کرلے اور اس کے بعد اُسے اندازہ ہو کہ جو شے اس کے لئے حاصل زندگی تھی۔ در حقیقت وہ زندگی کی سب سے بڑی مصیبت ہے تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس کا اندازہ آپ میری اس آپ بیتی سے لگا سکتے ہیں۔
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
مافوق الفطرت عشق قسط نمبر -09
یہ تباہ کن لمحے تھے ، میں نے اینی کے ممے دیکھے تھے ،اور اینی سے بارہا سیکس بھی کر چکا تھا لیکن اس وقت اس کا نظارہ کمال کا تھا۔اینی کی چھاتیاں ، ان کا تناؤ ، ان کی ٹائٹنس ، جیسے چاکلیٹی گیندیں ، ویسا ہی لچکیلا تناؤ ، اور چھاتیوں کے سرے پر چمکتے گہرے رنگ کے نپلز مجھے پاگل کرنے پر بضد تھے۔
میں نے آہستگی سے ہاتھ بڑھاتے ہوئے نپل کو چھوا ، اور تیز نشیلا کرنٹ پورے بازو میں دوڑتا گیا۔
کم آن ، شروع کریں ۔۔۔ مجھے اپنی آواز ہی کہیں دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی ، میرے اندر عجیب سی لہریں اٹھتیں مجھے اینی پر جھپٹنے کو اکسا رہی تھیں ۔
تم لیٹ جاؤ ۔۔۔ میں نے بوجھل آواز میں کہا ،
اور اینی کو تو جیسےکرنٹ لگا تھا ، اس کا کپکپاتا وجود اور تمتماتا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ پوری مستی میں آ چکی ہے ۔ شہوت چڑھ جانے کے بعد انسان کی سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت ویسے ہی چھین جاتی ہے ، اینی بھی حکم ملتے ہی اسی لمحے واشروم کے فرش پر بکھرتی گئی ، اور میں بے تابی سے اس پر جھپٹا ۔
میرے مچلتے گرم ہونٹ اینی کے ماتھے کو چومتے گالوں تک آئے ۔ ااااااففففف، اس کے پھولے پھولے رخسار ، جو میری نوکیلی زبان کے نشانے پر تھے۔
سسسسس آااااہہہہہہ سسسسکندررررررر ۔
جیسے ہی میں نے اینی کے رخساروں کو چوسا ، اینی کا جسم اوپر کو اٹھا ، اینی کے ہاتھ میری ننگی کمر پر پھسلے اور گویا بجلی کی دو تاریں آپس میں ٹکرائیں ۔
میں اپنے پورے وزن سے اس پر لیٹتا ، اپنا سینہ اس کی چھاتیوں پر دباتا اینی کو سسکا کر رکھ گیا ۔
سسسسس آاااہہہہہہ ، اااففففف ۔ میرے بدن کا لمس اینی کی جان نکال رہا تھا ، اسے ایسا محسوس ہورہا تھاجیسے اس کے اندر بھپرتا طوفان اس کے تن بدن کو جھلساتا رانوں کے درمیان چھپی پھدی کو بھگو گیا۔ میرے دہکتے ہونٹ اس کے رخساروں سے پھسلتے ، گردن کو چومتے ، چھاتیوں تک آئے ، اور وہ بے ساختہ سسک اٹھی ۔ میرے ہاتھوں نے اس کے چاکلیٹی گیندوں کو نچوڑ ہی ڈالا تھا ۔
میں اس کی چھاتیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے دباتا ، چوستا جا رہا تھا ، اور اینی کو یوں لگ رہا تھا ، جیسے اس کے جسم سے جان نکلتی جا رہی ہو ، شاور کے بہتے پانی اور ٹھنڈے گیلے فرش پر ایک دھند بھرا نشہ اسے بادلوں کی طرح اڑاتا لے جا رہا تھا ۔
سسسسس آااااااہہہہہہ ، آااررام سے ۔۔ ااااففففف۔۔۔ وہ سسک رہی تھی ، اور میں بھوکے بچے کی طرح چھاتیوں کو دبا دبا کر چوستا پوری تیاری پر آ چکا تھا ، میرا لن فل کھڑا ہو کر جھٹکے لے رہا تھا ۔
اینی کا دھڑکتا بدن اور میرے بہکتے ہونٹ جو چھاتیوں سے پیٹ تک گھومتے ، اسے مچھلی کی طرح تڑپنے پر مجبور کر رہے تھے ۔
اس کی گہری سانسوں سے کسے ہوئے پیٹ کی تھرتھراہٹ اور لرزش جان لیوا تھی ، وہ مجھے روکنا چاہتی تھی ، لیکن کوئی عجیب نشہ تھا جو اسے مست کرتا اس کے ہوش بھلاتا جا رہا تھا ۔
یہی وہ وقت تھا جب مجھے اپنی پینٹ کے کھسکنے کا احساس ہوا ، اینی کے بہکتے ہاتھ پینٹ کو نیچے کھینچ رہے تھے ۔ میں نے مسکراتے ہوئے تھوڑا سا اوپر ہوکر گانڈ پر پھنسی اپنی پینٹ کو کھینچا جومیرے گیلے بدن سے چپکتے ہوئے اترتی نیچے تک گئی ، اور میرے کولہوں پر شاور کے پانی کی دھار ڈائریکٹ پڑنے لگی جس ایسا لگا جیسے میرے بدن میں جیسے بھڑکی آگ پر پیٹرول گرنے لگ گیا ہو ۔۔میری بے قرار نظریں اینی کی گداز چکنی ملائم رانوں ، اور رانوں کے درمیان پھدی پر پڑی ۔
ااااااففففف ، جھرجھری لیتا میں بے ساختگی سے رانوں پر جھکا، میرے گرم پیاسے ہونٹ ملائم رانوں سے ٹکرائے ، اور میں نے گداز رانوں کو بھیڑیئے کی سی وحشت سے بھمبھوڑ ڈالا ، لمحوں میں ہی اینی کی سانولی رانیں میرے چوسنے سے گہرے رنگ کی ہو چکی تھیں۔
سسسس آااااہہہہہہ ، سسسس ااااففففف، ہہہہااائے نننننوووووو ، ہہہااااائے کرتی اینی کے بہکتے ہاتھ میرے شہوت کو مزید بھڑکا رہے تھے ۔
اینی کے بدن کا لمس اور جنسی خوشبو میرے حواسوں پر چھاتی ، سب کچھ بھلا رہی تھی ، اینی اب خود بھی گہرے طوفان میں ڈوبتی سب کچھ بھول چکی تھی ۔
میری نظریں رانوں کے درمیان حصےپر پڑی جو شاور کی پھوار اور پھدی کے ابال سے مکمل بھیگ چکا تھا ، پھدی کے کٹاؤ کے ساتھ ساتھ پنکھڑیوں کی لرزش بھی دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے بے اختیار پھدی کو مٹھی میں پکڑ کر مسل دیا ۔
سسسسس آااااااہہہہہہ سسسکندرررررر، ااااااففففف ۔۔۔
اینی مستی سے سسکتی ہوئی جھٹکے سے اٹھی ، ایسا لگتا تھا جیسے میں نے اُس کی پھدی کو مٹھی میں دبوچنے سے اس کے ضبط کا بند توڑ دیا تھا ۔
ایک میٹھا طوفان پورے بدن سے گھومتا ، پھدی سے ٹپک رہا تھا ، اینی شہوت سے سلگ رہی تھی۔
ااااااففففف ، اینی نے بے تابی سے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے ہاتھ کو سختی سے اپنی پھدی پر دباکر جگڑلیا۔
اینی کی یہ ہیجانی حرکت مجھے دیوانہ کر گئی ، میں نے جھٹکے سے اینی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے جھٹکے مارتے فل تنے لن پر رکھتے ہوئے ہلکا سا رگڑا ۔
سسسسس آااااہہہہہہ ، مرررر گئیییی ، ااااففففف ۔۔۔ اینی کو یوں لگا جیسے اس کا ہاتھ کسی گرم راڈ سے ٹکرا گیا ہو ۔
میرے جھٹکے لیتے لن کا لمس، ااااااففففف ، اس کا ہاتھ لن پر کانپا ، میری مٹھی میں دبی اس کی پھدی دھڑکتی رستی جارہی تھی۔
اینی نے لن کو یوں مظبوطی سے کس کر پکڑا ہواتھا ، جیسے وہ لن کا سہارا لے رہی ہو، اینی نے لن کو مضبوطی سے جکڑا اور اپنی طرف کھینچا ۔
یہ کھینچنا سپردگی تھی ، جسے میں اچھی طرح سمجھتا تھا ، میرے دل و دماغ اور جسم پر صرف پھدی چھائی ہوئی تھی ۔ اینی کی گلابی پھڑکتی پھدی میری مٹھی میں دھڑکتی جا رہی تھی ۔ میں نے پورے جوش سےپھدی کو مٹھی میں بھینچتے ہوئے مسلا ، جیسے موسمبی کا رس نکالنا چاہتا ہوں ۔
آآآآآہہہہہہہہ ہاااائے ۔ اینی پورے زور سے پھڑکی ، اور میں نے جھٹکے سے دونوں ٹانگوں کو کھول کر درمیان میں آتے ہوئے اپنے ہونٹ اینی کی چھاتیوں پر جما کر تنا ہوا لن کسی سپرنگ کی طرح چھلا اور پھولا ہوا ٹوپہ پنکھڑیوں سےلگا ۔
سسسسس آااااہہہہہہ ۔۔۔ ٹائٹ موٹے ٹوپے کاگرم لمس اوراس کا احساس اینی کے اندر سلگتی آگ کو اور بھڑکا گیا تھا ، یہ گرم لمس جو اس کی پھدی میں اٹھتی خارش کو مزید بھڑکا رہا تھا ۔
سسسس آااہہہہہہ ۔۔پلیز، ممممیری چوت ۔۔۔۔
اگلی قسط بہت جلد
مزید اقساط کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے