Unique Gangster–226– انوکھا گینگسٹر قسط نمبر

انوکھا گینگسٹر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ ایکشن ، رومانس اورسسپنس سے بھرپور ناول  انوکھا گینگسٹر ۔

انوکھا گینگسٹر — ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا بازار گرم کیا جاتا  ہے۔ معاشرے  میں  کوئی  بھی اُس کی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا ہے۔۔۔اس کو صرف اس لیے  چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کمزور اور بے بس  ہوتا۔

لیکن وہ اپنے دل میں ٹھان لیتاہے کہ اُس نے اپنے خاندان کا بدلہ لینا ہے ۔تو کیا وہ اپنے خاندان کا بدلہ لے پائے گا ۔۔کیا اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیئے اُس نے  غلط راستوں کا انتخاب کیا۔۔۔۔یہ سب جاننے  کے لیے انوکھا گینگسٹر  ناول کو پڑھتے ہیں

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انوکھا گینگسٹر قسط نمبر -226

ان کا بوس صوفے کے پیچھے سے اٹھا تو میں بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ گیا پر اٹھتے ساتھ  میں نے اسے  گردن سے پکڑ کر اس کے سر کے اوپر پسٹل رکھ لیا تھا ۔۔

میں بولا۔۔۔ خبردار جو اب کوئی حرکت کی تو

وہ آدمی جس نے لڑکی کے ممے پر کاٹا تھا وہ مجھے گالی دیتا ہوا آگے بڑھنے لگا تو میں نے بنا کوئی مہلت دیئے  گولی اسکی ٹانگ میں اتار دی۔۔

میں بولا۔۔۔ بہن چود تمہیں سمجھ نہیں آتی اب اگر کوئی حرکت کی تو اگلی گولی اس کے سر کے پار ہو گی۔۔

انکا بوس بولا۔۔۔ بکران اب کوئی حرکت مت کرنا آرام سے بیٹھے رہو۔۔

وہ لڑکی اب اپنے کپڑے سمیٹ چکی تھی اور اٹھ کر بیٹھی ہوئی ایک صوفے پر رو رہی تھی۔۔

میں اس لڑکی سے بولا۔۔۔ یہ رونے کا وقت نہیں ہے جلدی سے وکیل صاحب کو کھولو

اس لڑکی نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا اور پھر اپنے باپ کو کھولنے لگی۔۔۔

پیچھے کھڑے دونوں گارڈ سے میں نے بندوقيں سائیڈ میں پھینکوا دی تھی اور پھر اس عورت کو بھی جو اس آدمی کے ساتھ آئی تھی ان تینوں کو ایک کمرے میں گھسنے کو کہا تھا۔۔

پہلے تو وہ منع کرنے لگے لیکن جب میں نے غصے سے کہا تو تینوں اندر گھس گئے ان کے اندر گھستے ہی  کشف نے باہر سے دروازہ بند کر دیا تھا ۔۔

میں بولا۔۔۔ مسٹر بکران پہچانا مجھے

وہ بولا۔۔۔ میں پہلی بار تم سے مل رہا ہوں۔ میں کیسے پہچانوں  گا کہ تم کون ہو؟

میں بولا۔۔۔ میں وہی ہوں جس کو تم ملنے کے لیے تڑپ رہے تھے اور کل رات تم نے میرے بندے پر گولی بھی چلائی تھی ۔۔ اب جب میں تمہارے سامنے ہوں تو تم مجھے پہچاننے سے بھی انکار کر رہے ہو واہ کیا کہنے۔ ۔۔

وہ ہکلاتے ہوے بولا۔۔۔ تم سلطان ہو تم یہاں کیسے

میں بولا۔۔۔ تم نے مجھے کیا سمجھا ہوا ہے تم میرے ساتھیوں پر گولی چلاؤ  میرے بارے میں چھان بین کرو اپنا رعب دکھاؤ اور میں تمہاری خبر بھی نہ رکھوں تم کیا سمجھے تھے کہ میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں گا۔۔۔

باتوں کے دوران مجھ سے ایک غلطی ہو گئی تھی جو مجھ پر بھاری پڑنے لگی تھی میں نے  جسے  پکڑا ہوا تھا اس پر میری پکڑ تھوڑی ڈھیلی ہوئی تو اس نے مجھے دھکا دے دیا جس سے میں جا کر سیدھا صوفے کے ساتھ ٹکرایا میرے سر میں سے خون نکلنے لگا وہ بھاگ کر سیدھا بکران کے پاس چلا گیا اور اس نے اس کے پاس پڑی ہوئی پسٹل اٹھا کر مجھ پر تان دی۔۔

میں کھڑا ہوا تو میرے ہاتھ میں گن موجود نہیں تھی میرے گرنے کی وجہ سے پسٹل میرے ہاتھ سے گر چکی تھی۔۔۔

بکران کے ساتھ کھڑا شخص کوئی اور نہیں بلکہ حماد شیخ تھا۔ اسی نے بکران کو ہایئر کیا ہوا  تھا۔ پر  اب بکران زخمی تھا۔ جبکہ  اس کے ساتھ  میرے ہاتھ میں بھی گن موجود نہیں تھی اور  میرا سر بھی چکرا  رہا تھا۔۔۔سر سے لگاتار بہتا ہوا خون میری پوری شرٹ کو تر  کر چکا تھا۔

میں صوفے کو پکڑ کر کھڑا تھا۔

حماد شیخ چلاتے ہوئے بولا۔: تو تم ہو  وہ سلطان جس نے میرے بھائی کو جان سے مارا تھا اب دیکھ میں تمہارا کیا حال کرتا ہوں۔

پھر وہ کشف سے مخاطب ہوئے بولا چل رنڈی نکال میرے لوگوں کو باہر۔

میں ابھی تک ایسے ہی بت بنا کھڑا تھا ۔۔ایک تو میرے سر سے خون نکلنے کی وجہ سے میرا سر گھوم رہا تھا یہ مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اتنی تو چوٹ نہیں ہے جتنا خون نکل رہا ہے۔۔

میں بار بار ہاتھ رکھ کر اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔

کشف نے اس کی بات سن کر میری طرف دیکھا پر  میں تو خود اپنے حال سے بے حال تھا۔۔ کشف جب اپنی جگہ سے نہ ہلی تو اس نے اس کے والد کی طرف پسٹل کرتے ہوئے ایک گولی چلا دی جو اس کو تو نہ لگی لیکن جہاں وہ بیٹھا ہوا تھا اس صوفے میں جا گھسی جس کی وجہ سے  کشف ڈر گئی اور وہ دوڑتی ہوئی جا کر دروازے کو کھولنے لگی۔۔۔

کشف نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو اندر جو عورت تھی اس نے کشف کے منہ پر ایک تھپڑ مارا جس سے  کشف نیچے فرش پر جا گری جبکہ دو گارڈ بھی آگے بڑھ کر کشف کو پکڑنے لگے ۔

جیسے ہی وہ دونوں آدمی کشف کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھ کر اس کی جانب نیچے  جھکے عین اسی وقت فضا میں گولیوں کی تھرتھراہٹ گونج اٹھی ۔۔اس کے ساتھ ہی وہ  دونوں گارڈز کسی کٹی پتنگ کی طرح زمیں بوس ہوتے ہوۓ ابدی نیند سو گئے کیونکہ  گولیاں ان کے جسم کو چیرتی ہوئی اگے نکل گئی تھیں ۔۔۔

گولیوں کی آواز سنتے ہی دانش شیخ فورا اس طرف پلٹا۔اور میں اس موقع کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوۓ میں تیزی سے نیچے جھک کر اپنا پسٹل اٹھا کر الرٹ پوزیشن لے کر کھڑا ہو گیا ۔۔دانش شیخ کا دھیان اس وقت نئے آنے والے حملہ آور کی جانب تھا ۔۔

میں نے ترچھی نگاہیں کر کے آنے والے حملہ آور کی جانب  دیکھا تو وہاں جیدا اور اس کے ساتھ دو اور آدمی  بندوقیں تانے اندر کی جانب  بڑھتے چلے آرہے تھے۔۔

جیدے نے آتے ساتھ ہی اپنی بندوقوں کا رخ دانش شیخ کی طرف کر دیا تھا ۔۔یہ سارا نظارہ  بکران آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا ۔۔۔اس دوران میری حالت کچھ سنبھل گئی تھی پر پوری طرح اب بھی میں ٹھیک نہیں تھا جس کی وجہ سے میں صوفے کا سہارا لینے پر مجبور تھا ۔۔میں صوفے کو پکڑ کر اپنے پسٹل کا رخ دانش کی جانب کر کے دھاڑتے ہوۓ بولاتمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ اپنا ہتھیار پھینک دو ورنہ نتیجے کے زمدار تم خود ہو گے ۔۔تم خود سمجھ دار ہو سوچ سکتے ہو کے تمہارے ساتھ کیا ہو سکتا ہے ذرا سی غلطی پر ۔۔

اس دوران جیدا  آگے بڑھنے لگا تو وہ عورت موقع کا فائدہ اٹھانے کے چکر میں جیدے پر جھپٹ پڑی پر شائد یہ اس کی آخری غلطی تھی کیونکہ پیچھے کھڑے جیدے کے دوست نے اسے گولی مار کر وہیں گہری نیند سلا دیا تھا ۔۔

عدالتوں میں بڑی بڑی باتیں کرنے والے دونوں وکیل بالکل خاموش تماشائیوں کی طرح یہ سارا نظارہ دیکھ رہے تھے۔۔

جیدا میرے قریب آیا اور اپنے جیب سے رومال کو نکالتے ہوئے میرے سر پر رکھنے لگا تو میں نے  اسے منع کر دیا کیونکہ اس وقت یہ سب چونچلے مناسب نہ تھے ۔۔بیشک ہمارا پلڑا بھاری تھا پر ذرا سی غلطی بھی ہمارے لئے مصیبت بن سکتی تھی کیونکہ موت کو سامنے دیکھ کر اس سے بچنے کے لئے بزدل سے بزدل انسان بھی ہاتھ پاؤں ضرور مارتا ہے ۔۔بیشک دانش شیخ نے اپنا پسٹل پھینک دیا تھا اور اس سے فلحال کوئی خطرہ نہیں تھا پر ان دونوں کو زندہ چھوڑنا خود کے مرنے کے مترادف تھا ۔۔

جیدے کے دونوں دوستوں نے  آگے بڑھ کر   ان دونوں کے ہاتھ باندھ کر انہیں صوفے پر بٹھا کر ان پر گن تان دی  تھی ۔۔یہ سب انہوں نے پلک جھپکتے ہی کیا تھا جیسے وہ ان کاموں میں کافی ماہر ہوں ۔۔میں ان کی اس قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں داد دیے بغیر نہ رہ سکا کیونکہ انہوں نے موقع دیکھتے ہی اپنا کام کر دیا تھا۔۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page