Unique Gangster–229– انوکھا گینگسٹر قسط نمبر

انوکھا گینگسٹر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ ایکشن ، رومانس اورسسپنس سے بھرپور ناول  انوکھا گینگسٹر ۔

انوکھا گینگسٹر — ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا بازار گرم کیا جاتا  ہے۔ معاشرے  میں  کوئی  بھی اُس کی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا ہے۔۔۔اس کو صرف اس لیے  چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کمزور اور بے بس  ہوتا۔

لیکن وہ اپنے دل میں ٹھان لیتاہے کہ اُس نے اپنے خاندان کا بدلہ لینا ہے ۔تو کیا وہ اپنے خاندان کا بدلہ لے پائے گا ۔۔کیا اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیئے اُس نے  غلط راستوں کا انتخاب کیا۔۔۔۔یہ سب جاننے  کے لیے انوکھا گینگسٹر  ناول کو پڑھتے ہیں

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انوکھا گینگسٹر قسط نمبر -229

چند لمحے بیڈ پر لیٹنے کے بعد سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا کر  جیدے کا نمبر ملایا اور  اس کے کال اٹینڈ کرتے ہی اس سے پوچھا ” کام کا کیا بنا ۔۔۔

میری بات سن کر جیدا جواب دیتے ہوۓ بولا۔: ہاں ان لوگوں کی لاشوں کو رات میں ہی ٹھکانے لگا کر آئے تھے ہم ۔۔

میں بولا۔: گڈ اچھا کام کیا ۔۔دھیان رکھنا وہاں کوئی بھی ثبوت ہمارے خلاف نہیں بچنا  چاہیے۔۔

جیدا بولا۔: آپ بے فکر رہیں سب کچھ  صاف کر دیا۔۔۔۔کسی کو محسوس بھی نہیں ہو گا کے یہاں کیا ہوا ہے

میں بولا۔: ٹھیک ہو گیا ۔۔۔۔اچھا شیرا کہاں ہے۔؟

وہ بولا۔:۔ میں تو اس وقت  ہسپتال میں ہوں جبکہ  شیرا استاد  کام والی جگہ گیا ہوا ہے۔

میں بولا۔: ٹھیک ہے۔

میں بیڈ سے اٹھنے لگا تو علیزے ناشتے کا ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوتی نظر آئی اور مجھے اٹھتا دیکھ کر وہ بولی۔: آپ اٹھ کر فریش ہو جائیں تب تک میں میڈیکل باکس لے کر آتی ہوں۔۔

اس کی بات سن کر میں اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ بیڈ سے اٹھا اور واشروم میں گھس گیا فریش ہونے کےلیے ۔۔

فریش ہونے کے بعد  جب میں باہر نکلا تو علیزے  صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔مجھے واش روم سے باہر آتا دیکھ کر  اس نے مجھے اپنے ساتھ والے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔۔۔ میں آرام سے چلتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ علیزے صوفے پر سے اٹھ کر باکس کو اٹھائے ہوئے میرے قریب آئی اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ میری گود میں بیٹھ گئی۔۔۔۔

میں حیرانگی سے آنکھیں کھولے  صرف اسی کو دیکھے جا رہا تھا لیکن اس کو اس بات کی بالکل بھی پرواہ نہیں تھی اس نے میڈیکل باکس کھولا اور میری پٹی کو چینج کرنے لگی۔۔۔

وہ جان بوجھ کر تھوڑا ہل بھی رہی تھی جس سے میرا ہتھیار بھی سر اٹھا رہا تھا۔ پر  اس بات سے علیزے کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا شائد وہ جان بوجھ کر مجھے ترسا رہی تھی کیونکہ میں جتنا بھی ان معاملوں میں نہ سمجھ کیوں ہی نہ ہو پر اتنی کھلی دعوت کو ضرور سمجھتا تھا ۔۔۔وہ مجھے ترسا رہی تھی ۔۔یہ سب اس کے آنکھوں میں واضح نظر آرہا تھا ۔۔اور اس معاملے میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہی کیونکہ  میری حالت خراب ہو رہی تھی۔ میں بار بار دروازے کی جانب  دیکھ رہا تھا۔۔

وہ جان بوجھ کر تھوڑا آگے ہو کر میرے ماتھے کی پٹی لگا رہی تھی۔۔ جس سے اس کی چھاتیوں کے نپل میرے سینے میں پیوست ہو رہے تھے۔۔

اس کی آنکھوں میں اب شرارت کی بجائے  شہوت نظر آرہی تھی ۔۔۔جس سے  اسکی آنکھیں لال ہو رہی تھیں۔۔۔نیچے سے میرا لن بھی  مکمل کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔ میرے اکڑے ہوۓ لن کو علیزے نے  ہل جل کر  اپنی گانڈ کے کولہوں میں ایڈجسٹمنٹ کر لیا تھا۔۔۔

لن کے ایڈجسٹمنٹ ہوتے ہی  وہ آرام آرام سے ہلنا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔جیسے اگر وہ زیادہ ہلی تو کہیں لن گانڈ سے باہر ہی ناں نکل جاۓ۔۔۔

میری نظر مسسل دروازے پر جمی ہوئی  تھی۔۔۔۔

مجھے دروازہ پر نظریں جمائے دیکھ کر علیزے آگے بڑھی اور اپنے ہونٹ میرے کان کے قریب لاتے ہوئے بولی۔: میں نے آتے ہوئے دروازہ بند کر دیا تھا اس لیے وہاں سے کوئی بھی نہیں آئے گا آپ بے فکر رہیں ۔۔

 علیزے بات کرتے ہوۓ اس کی گرم سانسیں میرے کان پر پڑ رہی تھیں۔۔۔ جو میرے اندر الگ ہی گرمی پیدا کر رہی تھی۔۔ ناں چاہتے ہوئے بھی میرے جذبات قابو سے باہر ہو رہے تھے۔۔۔۔

میرا  لن تمام حديں توڑنے کو بیتاب تھا۔۔۔ اگر بیچ میں کپڑا ناں ہوتا تو اب تک میں علیزے کی پھاڑ چکا ہوتا۔۔۔

حالانکہ علیزے بھی یہی چاہتی تھی کہ میں اسکے اندر ڈال دوں۔

علیزے نے اپنی زبان نکال کر اسکی نوک کو میرے کان کی لو پر لگایا تو مجھے ایک نشیلا سا  کرنٹ کا جھٹکا  سا لگا۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی میرے منہ سے ایک چھوٹی سی سسکاری اففففف کی شکل میں نکل گئی ۔۔

جو علیزے سے بھی چھپی ناں رہ سکی۔ علیزے کو بھی گرین سنگل مل گیا تھا ۔۔۔

ہاں ابھی کھل کر وہ کچھ کر نہیں رہی تھی اور نہ کھل کر میں کچھ کہہ پا رہی تھی ۔۔۔

علیزے ابھی کچھ اور کر پاتی یا میں اس سے آگے بڑھ پاتا کے ۔۔۔۔ اس سے پہلے ہی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔ جسے سن کر علیزے ہڑبڑا کر ایک طرف ہوئی اور اسکی گانڈ سے میرا لن بھی نکل گیا۔۔

میری پینٹ کے اوپر جہاں علیزے کی پھدی تھی وہاں تھوڑا سا پانی لگا ہوا تھا۔۔۔

باہر سے لبنیٰ نے آواز دیتے ہوۓ کہا

لبنیٰ بولی۔: علیزے تم اندر کیا کر رہی ہو اتنی دیر سے ؟

اس کی بات سن کر تب تک علیزے خود کو سنبھال چکی تھی وہ جواب دیتے ہوۓ بولی :سلطان کی پٹی چینج کرنے آئی تھی پر وہ ابھی تک واشروم میں ہی ہیں۔

لبنیٰ بولی۔: وہ تو ٹھیک ہے  پر تم نے دروازہ کیوں بند کیا ہوا ہے ؟

علیزے بولی۔: پتہ نہیں شائد  بے دھیانی میں ہو گیا ہو گا۔ میں ابھی کھول دیتی ہوں ۔۔

لبنیٰ بولی۔۔۔ نہیں  اس کی ضرورت نہیں  ہے۔۔۔ میں تو بس ایسے ہی پوچھنے آئی تھی۔۔

یہ سب کچھ کہنے کے بعد لبنیٰ وہاں سے چلی گئی تو علیزے نے ایک لمبا سانس باہر چھوڑا اور میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔

میں ابھی تک ایسے ہی بیٹھا ہوا تھا۔ علیزے کی نظر میرے لن والی جگہ پر گئی جہاں علیزے کی پھدی سے نکلنے والے پانی سے داغ بنا ہوا تھا۔۔۔

علیزے نے جب نشان دیکھا تو فورا اپنی قمیض آگے سے اٹھا کر اپنی شلوار کو دیکھنے لگی۔ جب اس نے اپنا ہاتھ پھدی والی جگہ پر رکھا تو اسکا ہاتھ بھی تھوڑا گیلا ہو گیاتھا ۔۔۔

میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ یہ آگے کس حد تک جاتی ہے اس لئے خود سے میں نے کوئی پیش قدمی نہ کی ۔۔

علیزے بولی۔۔۔ دیکھ لو سلطان اب ۔۔۔کب تک صبر کروں ۔۔اس کا بند تو تمہیں دیکھتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔۔

میں بولا۔۔۔ یہ سب صحیح نہیں ہے علیزے ۔۔

وہ  بولی۔: ہر چیز میں صحیح یا غلط نہیں ہوتا۔۔ ہماری بھی کچھ خواہشات ہیں۔۔۔ اگر تم ہماری خواہشات پوری نہیں کرو گے تو کون کرے گا۔۔۔۔ آدھے سے زیادہ لڑکیاں یہی چاہتی ہیں۔۔۔ پر  تم سے کوئی کہہ نہیں پاتی۔ میں بھی آج بڑی مشکلوں سے یہ بات کہہ رہی ہوں۔۔۔ہم لڑکیاں شرم کا گہنا ہوتی ہیں ہم خود سے کبھی نہیں کہتی ۔۔پر تم نے اتنا مجبور کر دیا کے میں بھی تم سے یہ سب کہنے پر مجبور ہو گئی ۔۔

میں بولا۔: پر یہ سب کچھ میں کیسے کروں تم سب تو۔۔۔۔

ابھی میں آگے کچھ بول پاتا کے علیزے . درمیان میں ہی مجھے ٹوکتے ہوۓ  بولی۔: شششششہھھہ اس سے آگے کچھ مت بولنا ۔۔

علیزے آرام سے آگے بڑھی اور میری ٹانگوں کے قریب آ کر اپنا  ہاتھ بڑھا کر میرا لن پکڑ کر  میری جانب دیکھتے ہوۓ بولی۔:ہمارا نہیں تو کم سے کم اپنا ہی خیال کر لو دیکھ لو یہ خالی میرا ہاتھ لگنے سے ہی کیسے سر اٹھا رہا ہے۔۔۔

میرا لن جو سو گیا تھا س کا ہاتھ لگتے ہی دوبارہ سے سر اٹھانا  شروع ہو گیا تھا ۔۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page