Unique Gangster–230– انوکھا گینگسٹر قسط نمبر

انوکھا گینگسٹر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ ایکشن ، رومانس اورسسپنس سے بھرپور ناول  انوکھا گینگسٹر ۔

انوکھا گینگسٹر — ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا بازار گرم کیا جاتا  ہے۔ معاشرے  میں  کوئی  بھی اُس کی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا ہے۔۔۔اس کو صرف اس لیے  چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کمزور اور بے بس  ہوتا۔

لیکن وہ اپنے دل میں ٹھان لیتاہے کہ اُس نے اپنے خاندان کا بدلہ لینا ہے ۔تو کیا وہ اپنے خاندان کا بدلہ لے پائے گا ۔۔کیا اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیئے اُس نے  غلط راستوں کا انتخاب کیا۔۔۔۔یہ سب جاننے  کے لیے انوکھا گینگسٹر  ناول کو پڑھتے ہیں

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انوکھا گینگسٹر قسط نمبر -230

علیزے کی بات کا میں نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔۔ جب کہ وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے کر رہی تھی۔ جس کے چلتے میرا لن دوبارہ تن کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔

اس کے ہونٹ بار بار خشک ہو رہے تھے جس سے وہ اپنی زبان کو اپنے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے انہیں بار بار گیلا کر رہی تھی ۔۔پر وہ بار بار ہی خشک ہو رہے تھے۔۔

مجھ سے بھی اب برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔آخر میں بھی ایک بالغ مرد تھا ۔۔۔

میں نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے سر کے پیچھے رکھا اور اسے اپنی طرف کھینچ کر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔

جس سے وہ واپس میری گود میں آکر بیٹھ گئی ۔۔

علیزے  دیوانہ وار میرے ہونٹوں کو چوس رہی تھی۔۔  جبکہ میرے ہاتھ اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو پکڑے ہوئے انھیں اپنے لن پر دبائے ہوۓ تھے۔۔ 

میں اسے گود میں اٹھائے ہوے کھڑا ہوا اور چلتا ہوا اسے بیڈ پر لے آیا۔۔۔

علیزے کو  بیڈ پر لیٹانے کے بعد میں نے  اپنی شرٹ اتار کر صوفے پر پھینکی اور پھر اپنی پینٹ بھی اتار کر پیروں کی مدد سے اسے بھی اپنے آپ سے جدا کر دیا۔۔۔

اب میں صرف  انڈرویر میں علیزے کے سامنے موجود تھا۔

مجھے اپنے سامنے اس حالت میں دیکھ کر علیزے کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی جو صاف نظر آرہی تھی ۔۔۔  اس کی آنکھوں میں اس وقت  ایک عجیب ہی چمک تھی جیسے اس کا خواب پورا ہو گیا ہو۔

میں بیڈ پر آیا تو سب سے پہلے میں نے علیزے کی قمیض پکڑ کر اتارتے ہوۓ ساتھ  ہی اسکی شلوار بھی اتار دی۔

علیزے کے جسم پر اب صرف برا اور پینٹی ہی موجود تھی۔۔۔ اس کا  کا بےداغ جسم دیکھ کر میرا لن درد کرنے لگ پڑا تھا ۔۔

علیزے کا جسم تھا ہی اتنا پیارا کے میرا جی تو چاہ رہا تھا کہ میں جی بھر کے علیزے کے جسم کا دیدار کروں۔۔

34 سائز کے ممے اس کے نیچے سپاٹ پیٹ پھر تھوڑی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ۔

میں مزید آگے بڑھا اور  علیزے کا برا پکڑ کر اتار دیا ۔

جیسے ہی برا اترا تو ملائی کے پیڑے ابل کر باہر آگئے ۔۔ جن کے اوپر مٹر کے دانے جتنا نپل اور سب سے خاص بات اسکے اوپر ایک چھوٹا سا کالا  تل تھا ۔۔ جو ایسا لگ رہا تھا جیسے حسن کا دربان بیٹھا ہو۔۔۔

مجھے اس طرح گھورتا دیکھ کر علیزے نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور شرم کے مارے اپنا منہ  ایک طرف کر لیا۔۔۔

میں نے اپنے ہونٹ کھولے اور ایک ممے کو پکڑ کر اپنے منہ میں ڈال لیا۔۔جبکہ  دوسرے کو ہاتھ سے پکڑ کر دبانے لگ پڑا ۔۔۔۔ میرے اس طرح دورے حملے سے علیزے تڑپنا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔ اس کے منہ سے بے اختیار سسکیاں نکل رہی تھیں۔۔ جسے وہ دبانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

میں نے تھوڑی دیر ایک ممے کو چوسا اور پھر اسکو کو منہ سے نکال کر دوسرے کو منہ میں بھر کر ایسے چوسنے لگ پڑا جیسے کسی بھوکے بچے کو ماں کا دودھ میسر آجائے ۔۔۔

مموں سے خوب انصاف کرنے کے بعد میں نیچے کی طرف بڑھا۔ اور  پینٹی کو اتار کر پھدی سے الگ کر دیا۔۔۔ پھدی پر باریک باریک بال تھے۔۔جن سے پتا چل رہا تھا کے ان کی تین چار دن پہلے ہی شیو  ہوئی ہے ۔۔۔ پھدی لگاتار اپنا رس چھوڑ رہی تھی۔

میں نے اپنی ایک انگلی کو اپنے منہ میں ڈال کر گیلا کیا  اور انگلی کو پھدی کے اندر ڈالنے لگا پڑا ۔۔۔ انگلی آرام سے اندر جا رہی تھی۔

یہ دیکھ کر میں نے اپنا انڈرویر بھی اتار دیا میرے لن پر جب علیزے کی نظر پڑی تو اسکا سائز دیکھ کر اس کے  چہرے پر ایک خوف کی لہر نظر آئی۔۔

وہ کہے بغیر نہ رہ سکی کے : یہ تو کافی بڑا ہے اندر کیسے جاۓ گا۔؟

اس کی بات سن کر میں مسکراتے ہوۓ  بولا۔ آرام آرام سے کروں گا تو اندر چلا جائے گا  تمہیں درد نہیں ہو گا ۔۔

وہ بولی۔: پر  میں نے آج سے پہلے صرف اپنی انگلیاں ہی ڈالی ہیں ۔۔۔یییی یہہہیہ ۔۔۔یہ اتنا بڑا کیسے جائے گا ۔

میں بولا:۔ پھر تو آدھا کام تم نے کر دیا ہے۔۔  آدھا باقی ہے ۔۔

میں نے سائیڈ ٹیبل سے لوشن والی بوتل اٹھائی اور بہت سارا لوشن نکال کر میں نے لن پر لگایا اور کچھ لوشن میں نے علیزے کی پھدی پر بھی لگا دیا ۔۔

اچھے سے لن اور پھدی کو چکنا کرنے کے بعد  میں نے اپنے لن کی ٹوپی علیزے کی پھدی پر سیٹ کی اور تھوڑا سا زور لگایا تو ٹوپی پھدی کے اندر چلی گئی۔۔۔ جس سے علیزے کی منہ سے ایک چھوٹی سی چیخ نکل گئی ۔۔۔۔

علیزے نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ بند کر لیا۔۔۔ اسکی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے۔۔

میں نے صرف ٹوپی ہی اندر کی تھی اسکے بعد رک گیا تھا 

علیزے کی حالت کو ٹھیک کرنے کےلئے اور اس کا دھیان ہٹانے کے لئے میں نے اس کے ممے پکڑ کر دبانے شروع کر دیئے ۔۔جس کا اثر بہت جلد ہوا اور علیزے کی پھدی میں ایک دفعہ پھر نمی آنا شروع ہو گئی۔۔

پھدی کے نم ہونے کا فائدہ اٹھا کر تھوڑا زور لگا کر ٹوپی سے 3 انچ اور لن اس کی پھدی میں گھسا دیا ۔۔۔۔

لن کے گھستے ہی علیزے نے زور سے اپنے ہونٹ بند کیے ہوئے تھے۔۔۔ میں نے اسے تھوڑا تھوڑا درد دینا سہی نہیں سمجھا اور خود کو سیٹ کر کے اگلا زور دار جھٹکا دیتے ہوۓ  آدھے سے زیادہ لن علیزے کی پھدی میں ڈال دیا۔۔۔

جس کے چلتے ناں چاہتے ہوئے بھی علیزے کے منہ سے  چیخ نکل گئی ۔۔۔

حیرانگی کی بات تب ہوئی جب دروازے پر اس کے باوجود بھی کوئی دستک نہ ہوئی۔۔۔ یہ نہیں تھا کہ چیخ کچھ نارمل تھی چیخ کی آواز بہت ہی اونچی تھی جو ضرور باہر سنی گئی تھی ۔۔۔

علیزے نے ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ کر مجھے پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا تھا ۔۔

پر اس موقع پر  اپنے لن کو باہر نکالنا کھڑے لن پر پانی ڈالنے کے مترادف تھا جو کے میں بلکل نہیں چاہتا تھا ۔۔اگر اس وقت میں لن نکال لیتا تو اس نے دوبارہ کبھی بھی اندر نہیں کرنے دینا تھا ۔۔۔

 چند لمحے انتظار کرنے کے بعد جب اس کی حالت کچھ نارمل ہوئی تو میں نے بھی جتنا لن اندر تھا اسی کو ہی اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔

میں جب اپنے لن کو باہر کھینچتا تو مجھے ایسا لگتا جیسے علیزے کی کھال بھی لن کے ساتھ باہر آ رہی ہو۔

کچھ دیر بعد علیزے کی پھدی میں نمی آنا شروع ہوئی تو لن بھی آسانی سے آگے پیچھے ہونے لگ پڑا ۔۔۔

علیزے کا خون نکل کر بیڈ شیٹ پر پھیل چکا تھا۔

اب علیزے بھی میرا بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔۔۔ میں مسسل اسکے ممے دباتے ہوۓ گھسے ماری جا رہا تھا ۔۔۔ علیزے بھی ہلکے درد اور مزہ میں  سسک رہی تھی۔۔

کچھ ہی دیر میں اسکا جسم اکڑنا شروع ہو گیا .   اور وہ اسکی پھدی سے پچکاریاں نکلنے لگی جو مجھے اپنے لن پر واضع محسوس ہو رہی تھیں۔۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page