Unique Gangster–233– انوکھا گینگسٹر قسط نمبر

انوکھا گینگسٹر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ ایکشن ، رومانس اورسسپنس سے بھرپور ناول  انوکھا گینگسٹر ۔

انوکھا گینگسٹر — ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا بازار گرم کیا جاتا  ہے۔ معاشرے  میں  کوئی  بھی اُس کی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا ہے۔۔۔اس کو صرف اس لیے  چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کمزور اور بے بس  ہوتا۔

لیکن وہ اپنے دل میں ٹھان لیتاہے کہ اُس نے اپنے خاندان کا بدلہ لینا ہے ۔تو کیا وہ اپنے خاندان کا بدلہ لے پائے گا ۔۔کیا اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیئے اُس نے  غلط راستوں کا انتخاب کیا۔۔۔۔یہ سب جاننے  کے لیے انوکھا گینگسٹر  ناول کو پڑھتے ہیں

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انوکھا گینگسٹر قسط نمبر -233

میں بولا۔: کچھ نہیں انکل بس آپ کی طرف آرہا تھا تو  کچھ لوگ میرا پیچھا کر رہے تھے ۔۔۔ان سے پیچھا چھڑانے کے بعد جب مجھے لگا کہ اب میں آپ سے مل سکتا ہوں تو میں نے فورا آپ کو کال کی اور دروازہ کھلوا لیا۔۔

وہ بولے۔: کون تھے وہ لوگ اور تمہارا پیچھا کیوں کر رہے تھے ؟

میں بولا۔: مجھے یہ تو نہیں پتہ لیکن اگر وہ تعداد میں کم ہوتے تو میں ان کو دیکھ لیتا لیکن وہ دس  سے بارہ  لوگ تھے اور سبھی ہتھیاروں سے لیس تھے۔۔

وہ بولے۔: یہ تو بہت خطرے کی بات ہے ؟

میں بولا۔: نہیں اس میں خطرے والی تو کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہی پریشان ہونے والی۔۔۔۔ ایسا تو آئے روز میرے ساتھ ہوتا رہتا ہے

وہ بولے : اگر تم کہو تو میں ان کے بارے میں پتہ لگواؤں ۔۔

میں بولا۔: نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں خود ان کا پتہ  لگا لوں گا اور ان کا حل بھی نکال لوں گا۔۔  ویسے آپ بتائیں آپ مجھ سے کوئی ضروری بات کرنا چاہتے ہیں کیا بات ہے ؟

وہ بولے : یہاں ایسے کھڑے نہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔۔

اس کے بعد انکل نے مجھے بازو سے پکڑ کر  مجھے لے جا کر صوفے پر بٹھاتے ہوئے بولے “تم یہاں آرام سے بیٹھو پھر ہم بات کرتے ہیں ۔۔

ان کہنے پر میں صوفے پر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھا تو وہ بھی میرے سامنے بیٹھتے ہوۓ ایک نوکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جلدی سے کچھ کھانے کو لے کر آؤ۔۔

میں بولا: میں ابھی ناشتہ کر کے آیا ہوں اور میرے پاس زیادہ وقت بھی نہیں ہے ۔۔

وہ بولے۔: تم پریشان مت ہو میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا بس مجھے تمہیں یہ بتانا تھا کہ اگلی بار اکاؤنٹ میں اتنی زیادہ رقم بھیجنے سے پہلے اکاؤنٹ کی لمٹ کو بڑھا لینا۔۔۔۔ یہ تو اچھا ہوا کہ جس وقت تم رقم ٹرانسفر کر رہے تھے اس وقت میں آن لائن بیٹھا تھا اور میں نے اس کی لمٹ کو بڑھا دیا۔۔۔

میں بولا : میں تو ایک سادہ سا بندہ ہوں مجھے ان چیزوں کے بارے میں کچھ خاص پتہ نہیں تھا۔۔ وہ تو بس رقم میں ٹرانسفر کروا رہا تھا اور ہوتی گئی اور آپ کی وجہ سے مجھے کوئی پریشانی بھی نہیں ہوئی ۔۔

وہ بولے : . بیٹا اگر تم برا نہ مانو تو کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اتنی زیادہ رقم ایک وقت میں تم نے ٹرانسفر کیسے کی۔۔۔۔ کیا تم کوئی غیر قانونی کام تو نہیں کر رہے کیونکہ اتنی زیادہ رقم تو وہاں سے ہی ممکن ہو سکتی ہے ۔۔

میں بولا ۔: نہیں انکل ایسا کچھ بھی نہیں ہے آپ بے فکر رہیں میں ایسا کوئی کام نہیں کرنے والا۔۔

کیا میں آپ سے ایک فیور مانگ سکتا ہوں۔جب میں کہہ کر خاموش ہوا تو۔

وہ بولے کیسا فیور سلطان بیٹے۔۔

میں بولا ۔ میں آپ کے ساتھ بزنس میں پارٹنر شپ کرنا چاہتا ہوں کیا آپ میرے ساتھ بزنس میں پارٹنرشپ کرنا پسند کریں گے۔۔۔

وہ بولے۔: ہاں مجھے اس میں بھلا کیا  اعتراض ہو سکتا ہے ۔۔۔

میں بولا۔:۔ تو بتائیں مجھے اب آگے کیا کرنا ہو گا اور کتنی انویسمنٹ کرنی ہو گی۔۔؟

وہ بولے ۔: تم بھی اپنے وکیل سے بات کر لو اور میں بھی کر لیتا ہوں سارا کام کاغذی کروائی پر ہو تو بہتر ہے ۔۔۔ سارا کام نپٹانے کے بعد میں رابطہ کرتا ہوں۔۔

میں بولا۔:پر میرا تو کوئی بھی وکیل نہیں ہے جس سے میں یہ معاملات  ڈسکس کروں۔۔

وہ بولے۔: اس میں کوئی بڑی بات نہیں  ہے تم کوشش کرو اگر کوئی ناں ملا تو کوئی اور حل نکال لیں گے یا میں کوئی ڈھونڈ دو گا۔۔

میں بولا۔: ٹھیک ہے انکل  جیسے آپ کی مرضی۔۔

آپ اپنے وکیل سے بات کر لیں۔۔ اب تو ہم ایک ساتھ ہی بزنس کریں گے۔ اور میری نظر میں ایک وکیل ہے۔میں بھی اسے ہائر کر کے آپ کو کل اس سے ملواتا ہوں جو میری طرف سے سارا کام دیکھے گی یا پھر دیکھے گا ۔۔

آگے سے وہ بولے کوئی مسئلہ نہیں جب سب کچھ مکمل ہو جائے تو مجھے کال کر لینا اور ہم کسی اچھی جگہ بیٹھ کر مٹینگ کر کے  سب کچھ ڈسکس کر لے گے۔۔

کچھ دیر اور انکل سے بات چیت کرنے کے بعد  انکل سے میں نے جانے کی اجازت مانگی تو وہ آگے سے بولے تھوڑی دیر تم جس قسم کی سچویشن بتا رہے تھے میرا خیال ہے تمہیں یہاں پر ہی آرام کرنا چاہیے۔۔۔ دن کے وقت آرام سے نکل جانا۔۔۔ ابھی تو وہ لوگ تمہیں یہیں پر ہی کہیں تلاش کر رہے ہوں گے۔۔

میں بولا۔: ہاں یہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے مجھے تھوڑا انتظار کرنا چاہیے۔۔

انکل بولے۔۔ مجھے ابھی آفس جانا ہے میری وہاں پر ایک ضروری میٹنگ ہے تو تم یہاں پر ہی آرام کر لو میں گیسٹ روم کھلوا دیتا ہوں۔۔

میں بولا۔: نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ویسے ربیکا کہاں ہے مجھے کہیں نظر نہیں آئی

وہ بولے۔:۔ وہ سو رہی ہے ابھی رات کو پارٹی سے لیٹ آئی تھی۔۔

میں بولا:۔ ٹھیک ہے میں انتظار کر لیتا ہوں۔۔

میری بات سن کر انکل  ایک دفعہ مجھے ملے اور اسکے بعد اپنے آفس چلے گئے۔۔۔۔

انکل کے جانے کے بعد میں وہیں پر بیٹھا کافی دیر تک صرف اسی بارے میں سوچتا رہا کہ آخر وہ لوگ کون تھے جنہوں نے اتنی دیر میرا پیچھا کیا۔؟ انہیں میرے پیچھے کس نے لگایا ہو گا اور  وہ کس کے آدمی ہوں گے ۔۔ان کا ارادہ بات چیت کا بلکل بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔۔اگر انہیں موقع مل جاتا تو وہ پہلی فرصت میں ہی میرا ٹکٹ کاٹ دیتے ۔۔۔

جلد بازی کی وجہ سے  مجھے ان کی گاڑی کا نمبر دیکھنا بھی یاد نہیں رہا تھا ۔۔۔ اگر میں ان کی گاڑی کا نمبر دیکھ لیتا تو مشال کے ذریعے میں پتہ لگا سکتا تھا کہ وہ لوگ کون تھے۔۔

میں پتہ نہیں کتنی دیر وہاں پر بیٹھا صرف اسی بارے میں سوچتا رہا کہ اتنے میں میرے کندھے پر ایک ہاتھ محسوس ہوا اور گال پر تھوڑا گیلا پن بھی ۔۔۔ میں نے اپنے ایک طرف دیکھا تو ربیکا میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔: آج سورج کہاں سے نکلا ہے جو جناب ہمارے گھر کا راستہ بھول گئے ہیں ؟

میں بولا۔۔: مجھے تو کافی دیر ہو گئی ہے یہاں آئے ہوئے پر میڈم کو ہی فرصت نہیں اپنی نیند سے

وہ بولی۔: ہاں وہ تو میں نے دیکھا ہے کہ جناب کو کافی دیر ہو گئی یہاں۔۔ میں بھی کافی دیر سے تمہیں دیکھ رہی تھی لیکن تم کوئی حرکت ہی نہیں کر رہے تھے ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے بت بن کر۔۔

میں بولا۔۔: کچھ نہیں وہ انکل نے بلایا تھا ۔۔۔ان کو کچھ کام تھا اور پھر اسی بہانے میں نے بھی انکل کو ایک آفر کر دی تو اس لیے میرا یہاں آنا بھی مکمل ہو گیا۔۔۔

وہ بولی۔: اب تمہیں کون سا کام تھا ؟

میں بولا۔:۔ میں انکل کے ساتھ بزنس میں حصے داری کرنا چاہتا تھا اور یہی آفر میں نے انہیں کی اور انہوں نے  قبول کر لی۔۔۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page