Unique Gangster–235– انوکھا گینگسٹر قسط نمبر

انوکھا گینگسٹر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ ایکشن ، رومانس اورسسپنس سے بھرپور ناول  انوکھا گینگسٹر ۔

انوکھا گینگسٹر — ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا بازار گرم کیا جاتا  ہے۔ معاشرے  میں  کوئی  بھی اُس کی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا ہے۔۔۔اس کو صرف اس لیے  چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کمزور اور بے بس  ہوتا۔

لیکن وہ اپنے دل میں ٹھان لیتاہے کہ اُس نے اپنے خاندان کا بدلہ لینا ہے ۔تو کیا وہ اپنے خاندان کا بدلہ لے پائے گا ۔۔کیا اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیئے اُس نے  غلط راستوں کا انتخاب کیا۔۔۔۔یہ سب جاننے  کے لیے انوکھا گینگسٹر  ناول کو پڑھتے ہیں

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انوکھا گینگسٹر قسط نمبر -235

 کیا بکواس کر رہے ہو تم کیا تمہیں وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیا۔۔ تم صبح سے اس کے پیچھے ہو اور اب میرے سامنے یہ کہہ رہے ہو کہ وہ وہاں سے غائب ہو گیا۔۔ کیا وہ کوئی جن تھا جو وہاں سے غائب ہو گیا؟ ۔

سرکار ہم اس کے پیچھے ہی تھے اور جب ہم اس کو دبوچنے لگے تو وہ پارک میں سے آرام سے ٹہلتا ہوا نکلا اور پھر وہ بھاگتے ہوئے باہر نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کہیں غائب ہو گیا۔۔۔ ہم لوگ جب تک اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اس کا پیچھا کرتے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

باہر سے ایک آدمی بھاگتا ہوا آیا اور ہانپتے ہوئے بولا :سلیم سر آپ کے بھائی کا کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا اور اس کے ساتھ جو لوگ گئے تھے ان کا بھی کوئی پتہ نہیں چل رہا ۔۔۔ان کے پاس جو گاڑیاں تھیں وہ ایک پارک میں دیکھی گئی ہیں۔ ہم لوگوں نے پارک کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس پارک کی سی سی ٹی وی کیمرے پچھلے کئی سالوں سے خراب ہے۔۔۔

سلیم شیخ بولا۔: تو عقل کے اندھوں اس راستے کی فوٹیج چیک کرو جس سے وہ گزر کر گئی ہیں ۔۔

معاف کرنا سرکار ان لوگوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس پورے راستے میں کوئی بھی سی سی ٹی وی کیمرہ موجود نہیں ہے اور جن دو جگہوں پر کیمرہ موجود تھا ان کے آگے بھی پیپر نسب ہیں جس کی وجہ سے فوٹیج بلینک ہے ۔۔

سلیم شیخ بولا۔: مطلب جو کچھ بھی ہوا ہے وہ سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ہوا ہے ۔۔۔تم لوگ کس لیے ہو یہاں پتہ لگاؤ کہ ان لوگوں نے میرے بھائی اور ان لوگوں کو کہاں چھپا رکھا ہے۔۔۔

جی سرکار ہم وہی پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں کوئی بھی  سراغ نہیں مل رہا ۔۔

سلیم شیخ نے انکی بات سنی اور اپنا موبائل نکال کر اس نے کنٹیکٹ لسٹ میں جا کر کسی کا نمبر ملاتے ہوئے بولا : میرے بھائی کا پچھلے دو دن سے کچھ  پتہ نہیں چل رہا اور تم لوگ کیا بیٹھے جھگ مار رہے ہو ؟

وہ آدمی آگے سے بولا۔۔:میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں لیکن مجھے کوئی بھی سراغ  نہیں مل رہا ۔۔میں نے ابھی بھی وہاں پر فورس بھیجی ہے جہاں پر گاڑیاں ملی ہیں۔۔

سلیم شیخ بولا۔: مجھے کچھ بھی نہیں سننا مجھے جلد سے جلد میرے بھائی کا پتہ چاہیے۔۔ اگر مجھے میرا بھائی نہیں ملا تو میں اس پورے شہر کو کھنڈرات میں بدل دوں گا۔۔

وہ بولا۔: دیکھو سلیم تم ایسا کچھ نہیں کرو گے میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں تمہارا بھائی جلد سے جلد مل جائے گا۔۔

سلیم شیخ نے غصہ سے کال  کاٹی اور پھر اپنے آدمیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔: یہ مجھے نہیں پتہ کہ تم لوگ کیسے کرو گے لیکن مجھے میرا بھائی جلد سے جلد چاہیے.۔۔

سلیم شیخ کی بات کو سننے کے بعد اس کے جتنے بھی وہاں کھڑے گارڈ تھے سبھی نے اپنے اپنے موبائل نکال کر اپنے اپنے لوگوں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔

وہیں دوسری طرف۔۔

چوہدری کرامت کے ڈھیرے پر آج پھر ایک پارٹی چل رہی تھی۔۔ اس کے کچھ دوست شکار کی غرض سے اس کے ڈیرے پر آئے ہوئے تھے اور اس نے رضیہ کو وہاں پر بلایا ہوا تھا۔ رضیہ اپنی کچھ لڑکیوں کے ساتھ وہاں پر موجود تھی۔۔

رضیہ کے ساتھ آج بھی وہ لڑکی گئی ہوئی تھی جسے کچھ دن پہلے چوہدری کرامت اپنے ڈیرے پر لے گیا تھا اور پھر اسے رضیہ کے پاس پھینک کر گیا تھا جس کی حالت غیر ہو گئی تھی۔۔

چوہدری کرامت اور اس کے بندوں نے ساری رات ان لڑکیوں کو کسی درندوں کی طرح استعمال کیا اور صبح ایک وین میں ڈالا اور رضیہ کے ساتھ اس کے کوٹھے پر پھینک گئے۔۔

چوہدری کرامت اپنے بندوں کے ساتھ جب واپسی پر نکل رہا تھا تو اس کی نظر اس چھوٹی لڑکی پر پڑی اس لڑکی کے نین نقش چوہدری کرامت کے ہوش و حواس پر سوار ہو گئے۔۔۔

چوہدری کرامت آگے بڑھا اور رضیہ کے پاس جاتے ہوئے بولا اس کو کب بھیج رہی ہو۔؟

رضیہ بولی۔:۔ چوہدری صاحب کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ۔۔۔یہ تو ابھی بچی ہے یہ تو ابھی تک کلی بھی نہیں بنی اور آپ اسے پھول بنانے کی بات کر رہے ہو۔۔۔

چوہدری کرامت بولا۔: میرے سامنے زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے مجھے پتہ ہے کہ کون کلی بنی ہے اور کون پھول بننے والی ہے۔۔ میں نے تم سے یہ پوچھا ہے کہ اس کو کب بھیج رہی ہو تم سے  وضاحتیں نہیں پوچھی ہیں۔۔۔

رضیہ بولی۔:۔ یہ سب آپ کا ہی مال ہے آپ جب چاہیں اسے استعمال کر سکتے ہیں لیکن ہر چیز کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے اس کا ابھی صحیح وقت نہیں آیا ۔۔

چوہدری کرامت بولا۔:سیدھی طرح بکواس کر کہ تمہیں اس کی زیادہ رقم چاہیے بول کتنی رقم چاہیے میں دینے کو تیار ہوں

رضیہ بولی۔:چوہدری صاحب آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں اس کوٹھے پر جو بھی مال آئے گا اس پر سب سے پہلا حق تو آپ ہی کا ہے ۔۔یہ تو آپ بھی جانتے ہیں۔ کچھ چیزوں کو جلدی کرنے میں میں آپ کو روکتی ہوں ہر چیز کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے اور اس چیز کا فائدہ بھی وقت آنے پر ہی ہوتا ہے۔۔

چوہدری کرامت بولا۔:  صحیح وقت اس بارے میں میں کچھ نہیں جانتا میں اگلے ہفتے کو آؤں گا تب تک تم تیار رکھنا اسے ۔۔۔

اتنا کہنے کے بعد چوہدری کرامت وہاں سے چلا گیا بنا رضیہ بانو کی بات سنے۔۔

رضیہ بانو بھی تھوڑی پریشان ہوئی لیکن ایسی عورتیں کہاں پریشان رہنے والی ہیں۔ ان کا تو کام ہی لوگوں کی بہو بیٹیوں کے ساتھ یہ سب کروانا ہوتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

میں وہیں بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک ایک دفعہ پھر میرا موبائل بج اٹھا۔۔۔۔ موبائل اٹھا کر جب سکرین پر نظر دوڑائی تو وہاں ایک انجانا نمبر جگمگا رہا تھا ۔۔۔جس کو دیکھ کر پہلے تو میں نظر انداز کرنے لگا تھا کے پتا نہیں کس کی کال ہو گی پر کچھ سوچ کر میں رک گیا اور کال اٹینڈ کر کے موبائل کان کے ساتھ لگا لیا ۔۔۔

موبائل کو کان کے ساتھ لگاتے ہی اس کے سپیکر میں سے ایک لڑکی کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی :سلطان میں رانی بول رہی ہوں بہت مشکل سے تمہیں کال کرنے کا موقع ملا ہے۔۔۔۔ زمان تمہارے ساتھ کچھ برا کرنا چاہتا ہے ۔۔۔

اس کی بات سن کر میرے ماتھے پر بل پڑ گئے ایک لمحے سوچنے کے بعد میں بولا: یہ تمہیں کیسے پتہ ؟اور تم اتنے یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتی ہو۔؟

میرے ایک ساتھ دو سوال سن کر رانی بولی۔: میں اور نورین کل رات جب اپنے گھر جا رہی تھی تو ہم دونوں نے زمان کو کسی کو بات کرتے ہوئے سنا ۔۔۔۔وہ بار بار تمہارا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ اسے جلد سے جلد اٹھانا ہے.۔۔

میں بولا۔: تم سوچ کر بتاؤ وہ کس کا نام لے رہا تھا مطلب جس سے وہ کہہ رہا تھا کہ اسے اٹھانا ہے؟ کیا اس کا نام بھی اس نے لیا تھا۔۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page