Unique Gangster–236– انوکھا گینگسٹر قسط نمبر

انوکھا گینگسٹر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ ایکشن ، رومانس اورسسپنس سے بھرپور ناول  انوکھا گینگسٹر ۔

انوکھا گینگسٹر — ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا بازار گرم کیا جاتا  ہے۔ معاشرے  میں  کوئی  بھی اُس کی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا ہے۔۔۔اس کو صرف اس لیے  چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کمزور اور بے بس  ہوتا۔

لیکن وہ اپنے دل میں ٹھان لیتاہے کہ اُس نے اپنے خاندان کا بدلہ لینا ہے ۔تو کیا وہ اپنے خاندان کا بدلہ لے پائے گا ۔۔کیا اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیئے اُس نے  غلط راستوں کا انتخاب کیا۔۔۔۔یہ سب جاننے  کے لیے انوکھا گینگسٹر  ناول کو پڑھتے ہیں

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انوکھا گینگسٹر قسط نمبر -236

رانی بولی۔: نہیں اس کا نام اس نے نہیں لیا تھا۔۔ میں کافی دیر وہاں پر کھڑی رہی کہ اس کی ساری بات سن سکوں لیکن کچھ ہی دیر بات کرنے کے بعد وہ وہاں سے نکل گیا۔۔۔ وہ جاتے ہوئے بھی کافی غصے میں تھا مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے ۔۔۔۔

میں بولا۔: ان لوگوں نے مجھے جتنا نقصان پہنچانا تھا وہ مجھے پہنچا چکے ہیں۔۔۔ اب میری باری ہے ۔۔۔اب کی  بار میں ان کا نقصان کروں گا اور اتنا کروں گا کہ وہ کبھی اس کی بھرپائی بھی نہیں کر پائیں گے۔۔۔

رانی بولی۔:  مجھے ڈر لگا رہتا ہے سلطان۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ کافی خطرناک ہیں۔۔۔ یہ بات تم بھی بہت اچھے سے جانتے ہو اور پورا گاؤں جانتا ہے کہ ان لوگوں نے تمہارے خاندان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔۔

میں بولا:۔ یہ بات تمہیں یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔وہ سب میرے دل اور دماغ پر نقش ہے اسے میں کیسے بھول سکتا ہوں ۔۔۔  بہت جلد میں اپنا بدلا لینے آؤں گا اور اسی گاؤں میں سب کے سامنے ان کتوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کا دبدبہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دو گا  ۔۔

رانی بولی:۔ ہاں بالکل ایسا ہی ہوگا ہم بھی اپنی پوری جان لگا کر تمہارا ساتھ دیں گی۔۔۔ چاہے اس کے لیے ہمیں کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑ جاۓ۔۔۔

میں بولا۔: بس میرے پیپر ہونے والے ہیں۔۔میں ان سے فارغ ہو جاؤ پھر میرا رخ گاؤں کی جانب ہی ہو گا ۔۔اور ہاں تم دونوں نے اب سے ایک کام کرنا ہے ۔۔ جو بھی ان دنوں گاؤں میں واقعات ہوں گے تم مجھے روز اس کی اپڈیٹ دو گی۔۔۔

رانی بولی۔: یہ بھی کوئی کہنے  والی بات ہے بھلا ۔۔

میں بولا: ٹھیک ہے  اب میں فون رکھتا ہوں

اتنا کہنے کے بعد میں نے کال کٹ کر دی اور وہیں بیٹھا سوچنے لگا کہ آج جو لوگ میرا پیچھا کر رہے تھے کیا یہی وہ وحشی کے لوگ تھے۔۔۔ جو مجھے اٹھانے آئے تھے پر ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر وہ لوگ وحشی  کے آدمی تھے تو وہ میرے ساتھ اتنی نرمی سے پیش نہیں آتے ضرور کچھ گڑ بڑ ہے۔۔۔

اتنے میں مجھے اپنے کندھے پر ربیکا کا ہاتھ محسوس ہوا وہ فل کپڑے پہنے ہوئے تیار کھڑی  میرے کندھے کو دباتے ہوئے بولی :لگتا ہے سلطان آج کچھ  زیادہ ہی الجھنوں کا شکار ہو۔۔ میں تمہارے سامنے اندر آئی ۔۔۔میں نے کپڑے بدل لیے اور تمہیں اس کا کوئی بھی احساس تک نہیں ہوا۔۔

میں بولا۔:نہیں ایسی بات نہیں ہے ہاں میں آج تھوڑا زیادہ الجھا ہوا ہوں پر اتنا بھی نہیں کے تم جیسی حسین لڑکی کو اگنور کروں ۔۔۔

جہاں میری تعریف سن کر اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لئے لالی چھا گئی تھی وہیں الجھن کا سوچ کر وہ تھوڑا پریشان ہو گئی تھی اسی پریشانی کا اظہار کرتے ہوۓ وہ بولی :۔ اگر ایسی بات ہے تو ہم آج کہیں بھی نہیں جاتے۔۔

ان حالات میں باہر جانا خطرے سے خالی نہیں تھا اسی لئے میں نے بھی کچھ کہنے کے بجائے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوۓ کہا:: ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو آج ہم کہیں بھی نہیں جاتے تم یہیں پر سب کچھ منگوا لو ۔۔

ربیکا بولی۔۔: ٹھیک ہے تم یہاں بیٹھو میں ابھی آئی ۔۔

اتنا کہنے کے بعد ربیکا وہاں کمرے سے باہر چلی گئی۔

ابھی اسے گئے چند لمحے بھی نہ ہوۓ تھے کے  ایک بار پھر میرے موبائل کی رنگ ٹون بج اٹھی ۔۔۔میں نے سکرین پر نمبر دیکھا تو سحرش کا نمبر تھا۔۔ 

میں نے ایک دفعہ پھر کال اٹھائی اور موبائل کان کے ساتھ لگایا تو آگے سے سحرش بولی: اوئے مسٹر ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہیں اور توں ابھی تک نہیں آیا ۔۔۔کیا تیری پڑھائی اتنی جلدی مکمل ہو گئی ہے ؟

میں بولا:۔ نہیں یار ایک مسئلے میں پھنسا ہوا ہوں آج نہیں آ پاؤں گا کل آنے کی کوشش کروں گا ۔۔

میری بات سن کر سحرش پریشان ہوتے ہوۓ  بولی۔: کیوں کیا ہوا خیریت تو ہے تمہاری آواز میں بھی  پریشانی جھلک رہی ہے کیا سب ٹھیک ہے ؟

میں بولا۔۔۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں ٹھیک ہوں بس جیسے ہی فری ہوتا ہوں تو پھر آ کر ملنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔

سحرش بولی۔: ٹھیک ہے تم اپنا خیال رکھنا اور اگر کوئی پریشانی ہو تو ہمیں لازمی بتانا ۔۔

اتنا کہنے کے ساتھ ہی سحرش نے بھی کال کاٹ دی جبکہ اس دوران ربیکا دوبارہ سے کمرے کے اندر داخل ہوئی تو میں اسکی جانب دیکھتے ہوۓ بولا۔: مجھے ایک ضروری کام آن پڑا ہے مجھے جانا ہوگا۔۔ میرا بھی ارادہ تھا کہ تمہارے ساتھ میں پورا دن گزاروں لیکن ابھی مجھے کہیں جانا ہے ۔۔اگر تم برا نہ مانو تو میں جا سکتا ہوں ۔۔

میری بات سن کر ربیکا کا چہرہ اتر گیا پر جلد ہی وہ اپنے تاثرات کو چھپا گئی اور بولی : میرا دل تو چاہ رہا ہے کہ تم کہیں بھی نہ جاؤ بس میرے پاس ہی بیٹھے رہو۔۔ لیکن میں تمہیں روک بھی نہیں سکتی تم جہاں جانا چاہو جا سکتے ہو ۔۔

ربیکا کی بات سن کر میں بیڈ سے اٹھا اور ربیکا کو زور سے گلے لگاتے  ہوئے بولا:: تم بہت اچھی ہو جو میری پریشانی کو اچھے سے سمجھتی ہو ۔۔اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ سو  باتیں سناتا۔۔ لیکن تم نے تو فورا میری بات  مان لی

ربیکا بولی:۔ میں بھی کوئی ایسے نہیں مان رہی بدلے میں تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا۔۔ جب تم اپنی پریشانیوں سے نکل جاؤ گے تو تمہیں میرے ساتھ  پورے چوبیس  گھنٹے گزارنے ہوں گے اور چوبیس  گھنٹے نہیں گزار سکتے تو کم ازکم  دس گھنٹے لازمی۔۔

میں بولا۔: ہاں مجھے منظور ہے ۔۔

اتنا کہنے کے ساتھ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو  کس کی۔۔

 اس کے بعد میں باہر نکلا اور باہر نکل کر میں نے اپنی گاڑی نکالی اور سیدھا شیرا کو کال کرنے کے بعد اس کی طرف گاڑی کو بھگا دیا شیرا نے مجھے حویلی میں ملنے کو کہا تھا جو ہماری پرانی حویلی تھی۔۔

کافی لمبا فاصلہ طے کرنے کے بعد میں اپنی حویلی میں موجود تھا۔۔۔ میں نے پورے راستے اچھے سے تسلی کی تھی کے کوئی گاڑی پیچھا تو نہیں کر رہی پر سب امن و امان تھا ۔۔ کوئی بھی گاڑی میرا پیچھا نہیں کر رہی تھی لگتا تھا کہ وہ لوگ جا چکے تھے۔۔

ہم دونوں اس وقت نیچے تہ خانے میں بیٹھے ہوئے تھے اور شیرا مجھ  سے بات کرتے ہوئے مجھے بتا رہا تھا کہ اب سے ہر پل میں تمہارے ساتھ رہوں گا اور کام کی ساری نگرانی میں نے اپنے دوست کو سونپ  دی ہے ۔۔۔وہ سارا کام سنبھال لے گا میں وقتا فوقتا وہاں بھی چکر لگاتا رہوں گا لیکن میں اب تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔

مجھے بھی شیرا کی بات اچھی لگی جو کہ اس مشکل گھڑی میں میرا بھرپور ساتھ دے رہا تھا ۔۔جہاں ایک طرف وحشی مجھے اٹھانا چاہ رہا تھا  ۔۔وہیں دوسری طرف شیرا اس مشکل گھڑی میں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر میرا مسلسل ساتھ دیے جا رہا تھا۔

میں اور شیرا پھر میری ہی گاڑی میں وہاں سے نکلے اور ہم لوگ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔۔۔ جہاں میں نے لبنیٰ کو کال کر کے شیرا کےلیے ایک کمرہ تیار کروا لیا تھا جہاں پر وہ آرام کر سکے ۔۔۔۔۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page