Unique Gangster–237– انوکھا گینگسٹر قسط نمبر

انوکھا گینگسٹر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ ایکشن ، رومانس اورسسپنس سے بھرپور ناول  انوکھا گینگسٹر ۔

انوکھا گینگسٹر — ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا بازار گرم کیا جاتا  ہے۔ معاشرے  میں  کوئی  بھی اُس کی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا ہے۔۔۔اس کو صرف اس لیے  چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کمزور اور بے بس  ہوتا۔

لیکن وہ اپنے دل میں ٹھان لیتاہے کہ اُس نے اپنے خاندان کا بدلہ لینا ہے ۔تو کیا وہ اپنے خاندان کا بدلہ لے پائے گا ۔۔کیا اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیئے اُس نے  غلط راستوں کا انتخاب کیا۔۔۔۔یہ سب جاننے  کے لیے انوکھا گینگسٹر  ناول کو پڑھتے ہیں

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انوکھا گینگسٹر قسط نمبر -237

گھر  میں آکر  سب سے پہلے میں نے گاڑی کو پارک کیا اور پھر شیرا کو ساتھ لیتے ہوئے سیدھا مشال والے روم میں چلا گیا۔: جہاں ہم نے کمپیوٹر کا پورا سیٹ اپ رکھا ہوا تھا۔۔ شیرا جب  اس کمرے میں داخل ہوا تو وہ شاک کی کیفیت میں چلا گیا چند لمحے شاک کی کیفیت میں رہنے کے بعد وہ  میری جانب دیکھتے ہوئے بولا: یار یہ سب کیا ہے تم نے تو پورے شہر کے کیمرے یہاں پر لگا رکھے ہیں ۔۔۔

میں بولا۔: یہ میرا نیٹ ورک ہے اور میں ہر وقت چیزوں پر نظر رکھتا ہوں میرے یہ دوست فارغ بیٹھنا پسند نہیں کرتے ۔۔

شیرا بولا۔:  مجھے یہ تو پتہ تھا کہ تم نے ایک کا سیٹ اپ بنا رکھا ہے پر اتنا بڑا اور وسیع؟؟ اس بات کی مجھے ذرا بھی معلومات  نہیں تھی ۔۔

میں بولا۔:کچھ نہیں یار بس یہ سیٹ اپ لگا لیا ہے اب جو بھی چیز چاہیے ہوتی ہے یہاں سے نکال لیتے ہیں اور ہم نے جسے بھی ہیک کرنا ہوتا ہے وہ سب کر لیتے ہیں ۔۔

شیرا بولا۔: یہ تو بہت اچھی بات ہے

شیرا سے بات کرنے کے بعد میں دوبارہ مشال سے مخاطب ہوا اور اس سے بولا۔۔ میں نے تمہارے ذمے جو کام لگایا تھا اس کا کیا بنا ؟  کیا تمہارے پاس کسی قسم کی کوئی ڈیٹیل موجود ہے ؟

مشال نے ایک ڈائری میری طرف بڑھاتے ہوۓ  ایک لیپ ٹاپ کو کھول پر اس پر کچھ ویڈیو کلپ چلا دی ہے ۔۔

ڈائری پر ویڈیو کے بارے میں ڈیٹیل لکھی ہوئی تھی یہ گاڑی کب اور کس وقت یہاں سے گزری ہیں اور ساتھ میں ان کی ساری ڈیٹیل بھی کی وہ کس نام پر رجسٹر وغیرہ ہیں۔۔۔

یہ سب دیکھ کر میں مشال کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکا بلاشبہ وہ اس کام میں جینیس تھی ۔۔ ساتھ میں بیٹھی ہوئی شینا بھی کام پر لگی ہوئی تھی ۔۔شینا نے ایک ایل سی ڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے اور شیرا کو مخاطب کیا۔۔

میں نے جب اس ایل سی ڈی پر دیکھا تو میں حیران رہ گیا۔ ایل سی ڈی  پر پورا وہ روٹ شامل تھا۔۔۔ جس جس روٹ سے میں گزر کر ربیکا کے گھر گیا تھا اور پھر وہاں سے نکل کر میں سیدھا شیرا کے پاس آیا تھا۔۔

میں حیران ہوتے ہوئے شینا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا :شینا یہ سب کیا ہے؟؟ کیا تم مجھ پر بھی نظر رکھ رہی ہو ؟

شینا بولی۔۔:نہیں ہم آپ پر نظر نہیں رکھ رہی لیکن یہ سب آپ کی حفاظت کے لیے ضروری ہے ۔۔ہم آپ کی کوئی بھی کال نہیں سن سکتی کیونکہ ہم وہ سننا ہی نہیں چاہتی۔۔ لیکن صرف ہم اس بات پر نظر رکھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ اس وقت کہاں پر موجود ہیں کہیں آپ کے قریب کوئی خطرہ تو نہیں ؟اگر کوئی خطرہ وغیرہ ہو تو آپ فورا ہمیں کال کر سکتے ہیں آپ کو اپنے فون نمبر پر صرف 1234 ڈائل کرنا ہے اور آپ کا ایمرجنسی سگنل ہمارے سسٹم پر شو ہونا شروع ہو جائے گا  جو ایک الارم کی شکل میں ہوگا ۔۔

میں بولا۔: واو یار یہ تو بہت اچھی بات ہے یہ تم نے کب کیا ؟

شینا بولی:۔ یہ ہم نے نہیں بلکہ صبیحہ نے کیا تھا اسی کے ذریعے ہم نے آپ کی ساری لوکیشن وغیرہ یہاں پر نکالی تھی ۔۔

میں بولا۔۔۔ کیا تمہارا اس سے کوئی رابطہ وغیرہ ہوتا ہے ؟

شینا بولی:۔ ہاں کبھی کبھار ہماری بات چیت ہوتی رہتی ہے۔۔ کل وہ اسی سلسلے میں ہم سے ملنے بھی آرہی ہیں ۔۔ انہوں نے ایک ایپ تیار کی ہے جو ہم ایک آپ کے فون میں انسٹال کریں  گے۔۔ جس کے ذریعے آپ جہاں بھی ہوں گے ہم وہاں کے سی سی ٹی وی کیمروں کو ہیک کر سکیں گے اور اپنے سسٹم پر دیکھ سکیں گے۔

میں بولا۔: کیا یہ اتنا آسان ہے

مشال بولی۔۔۔ یہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے ۔۔ہمیں  کچھ ڈیوائس درکار ہوں گے ۔۔جو ہم آپ کو لکھ کر دیں گے۔۔۔ تو آپ ہمیں لا کر دے دینا اس کے بعد وہ ہم اپنے سسٹم کے ساتھ اٹیچ کر لیں گے۔۔ تو اس کے لیے جب بھی ایسا ویسا کچھ کرنا ہوگا تو ہم ان کی مدد سے وہ سب کر سکیں گی۔۔

شیرا بولا۔: یہ تو بہت ہی خطرناک ہے لیکن میرے دماغ میں ایک اور بات ہے کیا وہ ہو سکتا ہے

مشال شیرے کی جانب دیکھتے ہوۓ  بولی۔: آپ کس بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں آپ کھل کر بتائیں ؟

شیرا بولا۔: ابھی نہیں کل بتاؤں گا

شینا بولی۔۔۔ اگر آپ ابھی بتا دیتے تو ہم اس بارے میں کچھ سوچ وچار کر لیتے ہیں ۔۔

شیرا بولا۔:اب جب میں یہاں پر آگیا ہوں تو میں کچھ بڑا سوچوں گا۔۔ سب سے پہلے تو اس جگہ کے بارے میں پتہ کرنا ہے یہ کتنی بڑی ہے۔۔ اور کہاں کہاں پھیلی ہوئی ہے کل میں اس کا مکمل وزٹ کرنے کے بعد ہی آگے کا پلان آپ سب کو بتا سکتا ہوں۔۔ اس سے پہلے کچھ بھی کہنا یا کرنا وہ قبل از وقت ہوگا

میرے دماغ میں بھی کچھ الجھن آنے لگی تھی کہ اب یہ شیرا نیا کٹا کیا کھولنے لگا ہے ۔۔اس کو اب اس جگہ کے بارے میں کیا پتہ کرنا ہے۔۔۔ لیکن شیرا جو کچھ بھی کر رہا تھا وہ میرے لیے کر رہا تھا اسی لئے میں اسے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا نہ ہی اس پر دباؤ ڈال کر پوچھ سکتا ہوں ۔۔

ڈائری پر لکھی ہوئی ساری معلومات اور ان گاڑیوں کا ریکارڈ چیک کرنے کے بعد مجھے ان میں کوئی بھی گاڑی مشکوک نہیں لگی تھی ۔۔۔

شیرا کو کسی نمبر سے کوئی کال آنے لگی تو شیرا اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے باہر نکل گیا شاید یہ کال کام کے سلسلے میں تھی۔۔

میں جب باہر نکلنے لگا تو شینا اور مشال میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔ میں نے  جب یہ دیکھا تو مجھے بھی عجیب لگا میں صبح ہونے والی ساری کاروائی کو بھول چکا تھا۔۔۔ میں نے آنکھوں کے اشارے سے شینا کی طرف اشارہ کیا کہ کیا ہوا تو وہ بولی۔: ہمیں بھی آپ سے انعام چاہیے

میں بولا۔: کیسا انعام

شینا بولی۔۔۔ وہی انعام جو صبح آپ نے علیزے کو دیا تھا ۔۔

میں بولا۔:تمہیں کیسے پتہ کہ وہ انعام ہی تھا ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی سزا بھی ہو ؟

شینا بولی۔: اگر وہ سزا ہی تھی تو مجھے بھی ایسی سزا چاہیے

میں بولا۔:۔ سزا میں درد بہت ہوتا ہے بعض اوقات تو خون بھی نکل آتا ہے ۔۔

مشال بولی۔: خون ہم سنبھال لیں گے اب بس یہ بتائیں ۔۔آپ ہمیں اس خوبصورت انعام سے کب نواز رہے ہیں۔۔

میں بولا۔۔۔ اب یہ بات جب کھل ہی گئی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ انعام تو بہتوں میں بانٹنا پڑے گا ۔۔تو پھر دیکھتے ہیں کب کس کا نمبر لگتا ہے تم بھی انتظار کرو ۔۔۔

اتنا بول کر میں مسکرا دیا ۔۔

شینا بولی۔۔۔ ہم دونوں تیاری کریں یا انتظار۔۔

 اتنا کہنے کے ساتھ ہی دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی ماری  اور ہنس پڑی جبکہ میں اپنے سر کو جھٹکتے ہوۓ وہاں سے نکل کر  اپنے کمرے میں آ گیا

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page