Unique Gangster–240– انوکھا گینگسٹر قسط نمبر

انوکھا گینگسٹر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ ایکشن ، رومانس اورسسپنس سے بھرپور ناول  انوکھا گینگسٹر ۔

انوکھا گینگسٹر — ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا بازار گرم کیا جاتا  ہے۔ معاشرے  میں  کوئی  بھی اُس کی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا ہے۔۔۔اس کو صرف اس لیے  چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کمزور اور بے بس  ہوتا۔

لیکن وہ اپنے دل میں ٹھان لیتاہے کہ اُس نے اپنے خاندان کا بدلہ لینا ہے ۔تو کیا وہ اپنے خاندان کا بدلہ لے پائے گا ۔۔کیا اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیئے اُس نے  غلط راستوں کا انتخاب کیا۔۔۔۔یہ سب جاننے  کے لیے انوکھا گینگسٹر  ناول کو پڑھتے ہیں

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انوکھا گینگسٹر قسط نمبر -240

 جاوید چاند بولا۔:نہیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ تو بس صبح صبح کا ٹائم تھا اور رات کو بھی ہم تین بار کر چکے تھے  اسی لئے ۔۔صبح تمہیں تو پتہ ہے آفس کھلا تھا اور کوئی بھی آسکتا تھا اس ڈر کی وجہ سے اتنی جلدی ہو گیا۔۔

لڑکی بولی۔: دیکھ لو انکل میں آپ کے لیے کیا کیا کر رہی ہوں کل میں اپنے گھر سے نکلی تھی کہ میں ہاسٹل جا رہی ہوں اور ہاسٹل جانے کی بجائے میں آپ کے پاس رات گزار کر جا رہی ہوں اور آپ پھر بھی کہتے ہیں کہ تم مجھے ٹائم نہیں دیتی ہو اور پاپا کو بھی کچھ شک ہو گیا ہے۔۔ کہ میں آپ سے ملنے آتی ہوں انہوں نے بھی رات کو ہاسٹل میں فون کیا تھا وہ تو میرے سہیلی نے سارا کام سنبھال لیا۔۔

جاوید چاند بولا۔: تم پریشان ناں ہو میری بیوی کو بھی رات مجھ پر شک تھا بڑی مشکل سے رات یہاں پر گزاری ہے۔۔

میں اپنے موبائل کی ریکارڈنگ کو بند کر اپنے جیب میں ڈالا اور گلا کھنگارتے ہوے بولا۔: کیا میں اندر آ سکتا ہوں

جاوید چاند بولا۔۔۔ جی سر آئیں بتائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں

میں بولا۔۔۔ میں یہاں سے گزر رہا تھا تو آپ کے بینر پر میری نظر پڑی اور میں یہاں چلا آیا برا مت منانا اگر میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا ہو تو

جاوید چاند بولا۔:اس میں برا منانے والی کون سی بات ہے ہمارا تو کام ہی ہے آپ لوگوں کی خدمت کرنا

میں بولا۔:مجھے آپ کے پلاٹ وزٹ کرنے ہیں اور پھر اپنے لیے ایک پلاٹ خریدنا ہے

وہ بولا۔:جی سر کیوں نہیں پر ابھی تو ہمارا منیجر یہاں پر نہیں پہنچا جس کے ذمے یہ سارا کام ہے۔۔ اسی کو  پتہ ہے کہ کون سے پلاٹ بک گئے ہیں اور کون سے ابھی باقی ہیں ۔۔وہ سر 10 بجے آئے گا آپ اس وقت چکر لگا لیجئے گا یا آپ آرام کریں میں اسے کال کر کے ابھی بلاتا ہوں۔۔

میں بولا۔:کوئی بات نہیں میں پھر چکر لگا لیتا ہوں ویسے مجھے کارنر میں ایک پلاٹ چاہیے کم سے کم پانچ  سے ساتھ  کنال کا ہو۔۔

وہ بولا:آپ بے فکر رہیں سب کچھ مل جائے گا

اتنا کہنے کے ساتھ وہ واپس اپنی کرسی پر بیٹھا جبکہ میں وہاں سے باہر نکلا اور آرام آرام سے ٹہلتا ہوا اپنے گھر کی طرف جانے لگا۔۔

مجھے اس آفس سے  نکلے ہوئے قریب 20 منٹ ہوئے تھے کہ اتنے میں پیچھے سے ایک گاڑی ہارن بجاتی ہوئی میرے پاس آ کر  رکی۔۔

جسے وہی لڑکی ڈرائیو کر رہی تھی جو ابھی جاوید چاند کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔ اس لڑکی نے چشمہ لگایا ہوا تھا اور میرے پاس گاڑی کو روکتے ہوئے اس نے ایک طرف سے شیشے کو نیچے کیا اور دروازے کو کھولتے ہوئے بولی۔۔  آ جائیں میں آپ کو چھوڑ دیتی ہوں جہاں بھی جانا چاہتے ہیں آپ ۔۔

میں بولا:۔ نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں چلا جاؤں گا

وہ لڑکی بولی۔: آ جائیں میں آپ کو کھا نہیں جاؤں گی

میں نے بھی اس کی بات مانی اور گاڑی کے دروازے کو کھول کر اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔

وہ بولی۔: تو تم یہاں ہی کہیں رہتے ہو ؟

میں بولا۔: نہیں میں  شہر میں رہتا ہوں۔۔ یہاں تو ویسے ہی آیا تھا ۔۔۔دوست تھا اس سے ملنے  ساتھ میں اسے گاڑی کی ضرورت تھی وہ لے گیا۔۔

لڑکی بولی:۔ تو اب تم پیدل ہی شہر کی طرف جا رہے تھے تمہیں پتہ ہے یہاں سے شہر کم سے کم 30/35 کلومیٹر کی دوری پر ہے ۔۔

میں مسکرایا اور بولا۔۔۔ میں کہاں پیدل جانے والا ہوں یہاں آگے ایک پمپ ہے وہاں پر رکوں گا وہ بھی تھوڑی دیر میں وہاں ہی آ جائے گا تو پھر اس کے ساتھ شہر چلا جاؤں گا۔۔

وہ لڑکی مجھ سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھی لیکن اس میں ہمت نہیں آرہی تھی کہ وہ مجھ سے کوئی سوال کرے ۔۔۔یہ ارد گرد کی باتیں کر کے وہ اپنے اندر  حوصلہ پیدا کرنا چاہ رہی تھی تا کہ وہ مجھ سے پوچھ سکے اپنا سوال ۔۔

وہ لڑکی جب میرے گھر کے قریب سے گزرنے لگی تب بھی میں نے اس کو نہیں روکا کیونکہ وہاں سے آگے تین کلومیٹر کی دوری پر ایک پمپ تھا اور مجھے وہیں  پر ہی رکنا تھا۔۔اپنے گھر کے پاس نہ اترنے کی کچھ وجوہات تھیں ۔۔

ہم لوگ لگ بھگ پمپ پر پہنچنے والے تھے کہ وہ لڑکی اپنے اندر ہمت جتاتے ہوئے مجھ سے بولی۔: ویسے تم سے ایک بات پوچھوں برا تو نہیں مناؤ گے تم کب سے وہاں پر کھڑے تھے

میں بولا۔۔۔ کہاں پر

وہ بولی ۔۔۔ جاوید انکل کے آفس میں

میں بولا۔۔۔ میں وہاں سے گزر رہا تھا ان کا پینا فلیکس دیکھا اور سیدھا اندر چلا آیا اندر جب دیکھا تو آپ دونوں باتیں کر رہے تھے کیوں کیا ہوا۔۔

وہ بولی۔: کچھ نہیں بس ویسے ہی پوچھا

انہی باتوں کے دوران پمپ بھی آگیا اور میں نے اسے کہا مجھے یہی پر ہی اتار دو۔۔ اس نے مجھ آگے شہر چلنے کو کہا لیکن میں نے اسے منع کر دیا میں وہیں پر ہی اتر گیا تو اس نے گاڑی کو آگے بڑھا دیا جب تک اس کی گاڑی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گئی تب تک میں واپس نہیں لوٹا اس کی جانے کے بعد میں واپس مڑا اور تیز تیز دوڑتا ہوا سیدھا اپنے گھر آگیا ۔۔

گھر آنے کے بعد سیدھا ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھ کر میں نے ناشتہ کیا اور پھر ناشتہ کرنے کے بعد میں اپنے روم میں آ گیا۔

اپنے روم میں آنے کے بعد تھوڑی دیر میں نے بیڈ پر بیٹھ کر   آگے کے بارے سوچا کہ آگے مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔ کیونکہ آج کا دن میرا  کافی  مصروف ہونے والا تھا۔۔۔ ایک تو صبح کی شروعات ہی اتنی ہلچل والی تھی۔۔

کچھ سوچتے ہوئے میں نے شیرا کو کال ملائی اور اسے کہا کہ کسی بائیک کا انتظام کر کے دو۔۔۔

میری بات سن کر شیرا بولا۔:بائیک کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ آپ کے  پاس کار ہے نا اور ویسے بھی آج آپ کو  کہیں جانے کی  ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں بھی تھوڑی دیر میں آ رہا ہوں آپ کے پاس ۔۔ پھر آپ کی دوست سے مل کر گھر کے بارے میں بھی کچھ باتیں کلیئر کر لیں جو ان سے کرنا ضروری ہیں ۔۔۔ اور پھر بھی اگر آپ چاہتے ہیں تو  آتے ہوئے میں آپ کی  بائیک بھی لیتا آؤں گا۔۔۔۔

میں بولا۔:ٹھیک ہے میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔۔

شیرا ۔: میں بس نکل رہا ہوں اور مجھے آپ کو کچھ  بتانا بھی ہے جو آ کر بتاتا ہوں ۔۔۔

میں بولا۔: ٹھیک ہے میں انتظار کر رہا  ہوں ۔۔

اتنا کہنے کے بعد شیرا  نے کال کاٹ دی اور میں بھی  اپنے کمرے سے باہر نکل آیا  ۔۔۔ باہر آکر میں نے  پورے گھر کا  جائزہ لینے کے لیے ایک دفعہ  ارد گرد چکر  لگانے کا سوچا اور پھر اس سوچ پر عمل کرتے ہوۓ ٹہلنے لگا ۔۔

ٹہلتے ہوۓ میں سب سے پہلے  نیچے تہخانے میں گیا۔۔۔۔ جہاں ایک طرف ایک بڑا سا ہال نما کمرہ تھا ۔۔۔جبکہ  اس کے ساتھ دو اور کمرے بھی  تھے۔۔۔ ایک کمرے میں ہم نے پورا کمپیوٹر کا سسٹم نصب کیا ہوا تھا جبکہ دوسرے  کمرے میں ہم نے اپنی پیسے وغیرہ سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔۔۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page